Saturday, June 30, 2018

عظمتِ قرآن مجید ١

No comments:
عظمتِ قرآن مجید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن مجید کلام اللہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نوروھدایت کی طرف نکالے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ وہ اللہ تعالی ہی ہے جو اپنے بندے پرواضح آیات اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جاۓ } الحدید ( 9 ) ۔

اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں پہلے اور آخری لوگوں اور زمین وآسمان کی پیدائش کی خبریں دی ، اور اس میں حلال وحرام اور آداب واخلاق کے اصول ، اور عبادات و معاملات کے احکام ، انبیاء وصالحین کی سیرت ، کافروں اور مومنوں کی جزاوسزا ، مومنین کے گھر جنت کا وصف اور کافروں کے گھر جہنم کا تفصیلی بیان ہے اور اسے ہرچيز کے بیان کرنے والا بنایا ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اور ہم نے آپ پریہ کتاب نازل فرمائ ہے جس میں ہرچیزکا کافی وشافی بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے رحمت وخوشخبری ہے } النحل ( 89 ) ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اس کی مخلوقات اور اللہ تعالی اس کےفرشتوں اورکتابوں اوررسولوں اورآخرت کے دن پرایمان کی دعوت کا بیان ہے ، جیسا کہ فرمان ربانی ہے :

{ رسول اس چيزپرایمان لایا جواللہ تعالی کی طرف سے اس پر نازل ہوئ اورمومن بھی ایمان لاۓ ، یہ سب اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاۓ ، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے ، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ،اے ہمارے رب ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں ، اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے } البقرۃ ( 285 ) ۔

اورقرآن مجید میں قیامت کے دن اور موت کے بعد حشرونشر اور حساب وکتاب کے حالات کا تزکرہ ہے ، اور حوض کوثر اور پل صراط ومیزان اور نعمتوں اورعذاب اور قیامت کے دن لوگوں کے جمع ہونےکا وصف بیان کیاگیا ہے ۔

فرمان باری تعالی کا ترجمہ ہے :

{ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئ معبود ( برحق ) نہیں وہ تم سب کویقینا قیامت کے دن جمع کرے گا ، جس کے ( آنے ) میں کوئ شک وشبہ نہيں اللہ تعالی سے زیادہ سچی بات کرنے والا کون ہے } النساء ( 87 ) ۔

اور قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالی کی آیات کونیہ ( اس جہان کی نشانیوں ) اور آیات قرآنیہ میں غوروفکر اورتدبر اورسوچ بچارکی دعوت دی گئ ہے ، اللہ تبارک وتعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

{ کہہ دیجۓکہ تم غوروفکرکروکہ آسمان وزمین میں کیا کیا ہے}یونس 101

اوررب ذوالجلال کا فرمان ہے :

{ کیا وہ قرآن پر غورفکر نہيں کرتے ؟ یا پھر ان کے دلوں پر تالے لگ چکے ہيں } محمد ( 24 ) ۔

قرآن مجید سب لوگوں کی طرف اللہ تعالی کی کتاب ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ ہم نے آپ پرلوگوں کے لیے یہ کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائ ہے پس جو شخص ھدایت پر آجاۓ تو اس کا اپنا ہی نفع ہے اور جوگمراہ ہوجاۓ اس کی گمراہی کا وبال بھی اس پر ہے اورآپ ان ذمہ دارنہيں ہیں } الزمر ( 41 ) ۔

اورقرآن کریم اپنے سے پہلی کتابوں مثلا توراۃ وانجیل کی تصدیق کرنے والا اوران کا محافظ ہے ، جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

{ اورہم نے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائ ہے جواپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اوران کی محافظ ہے } المائدۃ ( 48 ) ۔

نزول قرآن کے بعد یہی ایک ایسی کتاب ہے جو بشریت کے لیے تاقیامت کتاب رہےگی ، اب جو بھی اس پر ایمان نہ لاۓ وہ کافر ٹھرا اوروہ روزقیامت سزا سے دوچار ہوگا ، جیسا کہ رب ذوالجلال کےفرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ اورجولوگ ہماری آیات کوجھٹلائیں ان عذاب پہنچےگا اس ليے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں } الانعام ( 49 ) ۔

قرآن کریم کی عظمت اور جو کچھ اس میں فصاحت وبلاغت اور معجزات و نشانیاں اورامثال و عبرتیں ہیں اس کی بنا پر اللہ تعالی نے فرمایا :

{ اگرہم اس قرآن کوکسی پہاڑ پراتارتے تو آپ دیکھتے کہ وہ خشیت الہی سے پست ہوکر ریزہ ریزہ ہوجاتا اورہم ان مثالوں کولوگوں کے سامنے بیان کرتے تاکہ وہ غوروفکر کریں } الحشر ( 21 ) ۔

اور اللہ تعالی نے جن وانس کا یہ چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کی مثل لائيں یا پھر اس کی مثل ایک سورۃ ہی لے آئيں ، اور اس کی مثل کوئ‏ ایک آیت ہی لے آئيں ، تووہ اس کی استطاعت نہ پا سکے اور وہ اس کی طاقت رکھ بھی نہیں رکھ سکتے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ کہہ دیجۓ کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کی مثل لانا چاہيں تو ان سب سے اس کی مثل لانا ممکن ہے گوہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائيں } الاسراء ( 88 ) ۔

توجب قرآن کریم آسمانی کتب میں سب سے عظيم اور کامل اورآخری کتاب تھی ، تو اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کتاب لوگوں تک پہنچانے اور اس کی تبلیغ کا حکم دیتے ہوۓ فرمایا :

{ اے رسول جو کچھ بھی آپ کے رب نےآپ کی طرف نازل فرمایا ہے پہنچا دیں ، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ تعالی کی رسالت ادا نہیں کی } المائدۃ ( 67 ) ۔

اوراس کتاب کی اھمیت اور امت کواس کی ضرورت کے پیش نظراللہ تعالی نے اس کے ساتھ ہماری تکریم کرتےہوۓ ہم پرنازل فرمائ اوراس کی حفاظت اپنے ذمہ لیتے ہوۓ فرمایا :

{ بیشک ہم نے ہی قرآن کونازل فرمایا اورہم ہی اس کی حفاظت کرنےوالے ہیں } الحجر ( 9 ) ۔  .

شیخ محمد بن ابراھیم التویجری کی کتاب " اصول الدین الاسلامی " سے لیا گیا ۔

Wednesday, June 27, 2018

Thursday, May 24, 2018

Tuesday, May 1, 2018

Thursday, April 26, 2018

رمضان المبارك كى خصوصيات كيا ہيں ؟

No comments:

رمضان المبارك كى خصوصيات كيا ہيں ؟

الحمد للہ:

ماہ رمضان عربى بارہ مہينوں ميں سے ايك مہينہ ہے، اور دين اسلام ميں يہ مہينہ عظيم الشان قدر و منزلت ركھتا اور باقى سب مہينوں سے اسے بہت سارے خصائص حاصل ہيں جن ميں سے چند ايك خصوصيات ذيل ميں بيان كى جاتى ہيں:

1 - اللہ سبحانہ و تعالى نے اس ماہ مبارك كے روزے ركھنا دين اسلام كا چوتھا ركن قرار ديا ہے، جيسا كہ ارشاد بارى تعالى ہے:

{ ماہ رمضان وہ مہينہ ہے جس ميں قرآن مجيد نازل كيا گيا جو لوگوں كے ليے ہدايت كا باعث ہے اور اس ميں راہ ہدايت كى واضح نشانياں ہيں، اور فرقان ہے، اس ليے جو كوئى بھى ماہ رمضان كو پا لے تو وہ اس ماہ كے روزے ركھے }البقرۃ ( 185 ).

اور صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اسلام كى بنياد پانچ اشياء پر ہے: اس بات كى گواہى دينا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كےعلاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور يقينا محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ كے بندے اور اس كے رسول ہيں، اور نماز كى پابندى كرنا، اور زكاۃ ادا كرنا، اور رمضان المبارك كے روزے ركھنا، اور بيت اللہ كا حج كرنا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 8 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 16 ).

2 - اللہ سبحانہ و تعالى نے اس ماہ مبارك ميں قرآن مجيد نازل كيا ہے، جيسا كہ مندرجہ بالا آيت ميں فرمان بارى تعالى ہے:

{ رمضان المبارك وہ مہينہ ہے جس ميں قرآن مجيد نازل كيا گيا ہے جو كہ لوگوں كے ليے باعث ہدايت ہے اور اس ميں ہدايت كى نشانياں ہيں اور فرقان ہے }البقرۃ ( 185 ).

اور دوسرے مقام پر ارشاد ربانى ہيں:

{ يقينا ہم نے اس قرآن مجيد كو ليلۃ القدر ميں نازل كيا ہے }.

3 - اللہ سبحانہ و تعالى نے اس ماہ مبارك ميں ليلۃ القدر ركھى ہے جو كہ ايك ہزار مہينوں سے افضل و بہتر ہے، جيسا كہ درج ذيل فرمان بارى تعالى ميں ہے:

{ يقينا ہم نے اس قرآن مجيد كو ليلۃ القدر ميں نازل كيا ہے، تجھے كيا علم كہ ليلۃ القدر كيا ہے، ليلۃ القدر ايك ہزار مہينوں سے بہتر ہے، اس ميں ہر كام كے سرانجام دينے كو اپنے رب كے حكم سے فرشتے اور جبريل اترتے ہيں، يہ رات سراسر سلامتى والى ہے اور فجر كے طلوع ہونے تك رہتى ہے }القدر ( 1- 5 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ يقينا ہم نے اس قرآن مجيد كو بابركت رات ميں نازل كيا ہے بيشك ہم ڈرانے والے ہيں }الدخان ( 3 ).

اللہ سبحانہ و تعالى نے رمضان المبارك كو ليلۃ القدر كے ساتھ فضيلت دى ہے، اور ليلۃ القدر كى قدر و منزلت بيان كرنے كے ليے سورۃ القدر نازل ہوئى، اور بہت سارى احاديث بھى اس سلسلہ ميں وارد ہيں جن ميں سے چند ايك ذيل ميں بيان كى جاتى ہيں:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تمہارے پاس وہ بابركت مہينہ آ رہا ہے جس كے روزے اللہ نے تم پر فرض كيے ہيں، اس ميں آسمان كے دروزے كھل جاتے ہيں اور جہنم كے دروازے بند كر ديے جاتے ہيں، اور سركش شيطانوں كو زنجيروں ميں باندھ ديا جاتا ہے، اللہ كے ليے اس ميں ايك رات ہے جو ايك ہزار مہينوں سے بہتر ہے، جو بھى اس رات كى خير سے محروم ہو گيا تو وہ محروم ہے "

سنن نسائى حديث نمبر ( 2106 ) مسند احمد حديث نمبر ( 8769 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الترغيب حديث نمبر ( 999 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ايك دوسرى روايت ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى ليلۃ القدر كا ايمان اور اجروثواب كى نيت سے قيام كيا اس كے پچھلے سارے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1910 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 760 ).

4 - اللہ سبحانہ و تعالى نے رمضان المبارك ميں ايمان اور اجروثواب كى نيت سے روزے ركھنا اور قيام كرنے كو گناہوں كى بخشش كا سبب بنايا ہے؛ جيسا كہ صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ميں بيان ہوا ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى رمضان المبارك ميں ايمان اور اجروثواب كى نيت سے روزے ركھے اس كے پچھلے سارے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2014 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 760 ).

اور ايك حديث ميں وارد ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى رمضان المبارك كا ايمان اور اجروثواب كى نيت سے قيام كيا اس كے پچھلے سارے گناہ بخش ديے جاتے ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2008 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 174 ).

مسلمانوں كا اجماع ہے كہ رمضان المبارك كى راتوں ميں قيام كرنا سنت ہے، امام نووى رحمہ اللہ نے بيان كيا ہے كہ قيام رمضان سے مراد نماز تراويح ہے يعنى نماز تراويح سے قيام الليل كا مقصد حاصل ہو جاتا ہے.

5 - اس ماہ مبارك ميں اللہ سبحانہ و تعالى جنتوں كے دروازے كھول ديتے ہيں، اور جہنم كے دروازے بند كر ديتے ہيں اور شيطانوں كو زنجيروں ميں بند كر ديا جاتا ہے، جيسا كہ درج ذيل حديث سے ثابت ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب رمضان المبارك شروع ہو جاتا ہے تو جنت كے دروازے كھول ديے جاتے ہيں، اور جہنم كے دروازے بند كر ديے جاتے اور شيطانوں كو ونجيروں ميں جكڑ ديا جاتا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1898 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1079 ).

6 - رمضان المبارك كى ہر رات اللہ سبحانہ و تعالى كچھ لوگوں كو جہنم كى آگ سے آزاد كرتے ہيں:

ابو امامہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر افطارى كے وقت اللہ تعالى كے ليے كچھ آزاد ہوتے ہيں "

اسے امام احمد نے مسند احمد ( 5 / 256 ) ميں روايت كيا ہے، امام منذرى رحمہ اللہ نے اس كى سند كو لاباس كہا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الترغيب حديث نمبر ( 987 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور بزار نے كشف ( 962 ) ميں ابو سعيد سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر مسلمان كے ليے ہر دن اور رات ميں دعا قبول ہوتى ہے "

7 - جب كبيرہ گناہوں سے اجتناب كيا جائے تو رمضان المبارك كے روزے ركھنا پچھلے سب گناہوں كا كفارہ بن جاتے ہيں:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" پانچوں نمازيں اور جمعہ سے ليكر جمعہ تك اور رمضان سے رمضان تك ان كے مابين گناہوں كا كفارہ ہيں جبكہ كبيرہ گناہوں سے اجتناب كيا جائے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 233 ).

8 - رمضان المبارك كے روزے ركھنا دس مہينوں كے برابر ہيں جيسا كہ صحيح مسلم كى درج ذيل حديث دلالت كرتى ہے:

ابو ايوب انصارى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے رمضان المبارك كے روزے ركھے اور پھر اس كے بعد شوال كے چھ روزے ركھے تو گويا كہ اس نے سارا سال ہى روزے ركھے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1164 ).

اور ايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے رمضان المبارك كے روزے ركھے تو ايك ماہ دس ماہ كے برابر ہے، اور عيد الفطر كے بعد چھ روزے ركھے تو يہ پورے سال كے روزے ہونگے "

مسند احمد حديث نمبر ( 21906 ).

9 - جو شخص رمضان المبارك ميں رات كو امام كے ساتھ قيام مكمل كرے تو اسے سارى رات كے قيام كا ثواب حاصل ہوتا ہے:

ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى امام كے ساتھ قيام كيا حتى كہ امام چلا جائے تو اس كے ليے پورى رات كا قيام لكھا جاتا ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1370 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صلاۃ التراويح صفحہ ( 15 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

10 - اس ماہ مبارك ميں عمرہ كرنا حج كے برابر ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك انصارى عورت كو فرمايا:

" تجھے ہمارے ساتھ حج كرنے سے كس چيز سے روكا ؟

اس عورت نے عرض كيا: ہمارے پاس دو ہى اونٹ تھے ايك پر اس كے شوہر نے حج كيا اور دوسرا ہمارے ليے چھوڑ گيا جس پر ہم پانى لاتے تھے.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب رمضان آئے تو تم عمرہ كر لينا، كيونكہ رمضان ميں عمرہ كرنا حج كے برابر ثواب ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1782 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1256 ).

اور صحيح مسلم كى ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" ميرے ساتھ حج كا ثواب ہے "

ناضح كا معنى وہ اونٹ جس پر پانى لايا جائے.

11 - ماہ رمضان ميں اعتكاف كرنا مسنون ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ نے مستقل طور پر ہر رمضان ميں اعتكاف كيا تھا جيسا كہ درج ذيل حديث ميں وارد ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فوت ہونے ہر رمضان كے آخرى عشرہ ميں اعتكاف كيا كرتے تھے، اور پھر ان كى بيويوں نے بھى آپ كے بعد اعتكاف كيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1922 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1172 ).

12 - رمضان المبارك ميں قرآن مجيد كى كثرت سے تلاوت اور دور كرنا مستحب ہے، دور اس طرح ہوگا كہ قرآن مجيد كسى دوسرے شخص كو سنايا جائے، يا پھر كسى دوسرے كا سنا جائے، اس كے مستحب ہونے كى دليل درج ذيل حديث ہے:

" جبريل عليہ السلام رمضان المبارك ميں ہر رات كو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مل كر قرآن مجيد كا دور كيا كرتے تھے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2308 ).

قرآن مجيد كى تلاوت كرنا مطلقا مستحب ہے، ليكن رمضان المبارك ميں زيادہ تاكيدى ہے.

13 - رمضان المبارك ميں كسى دوسرے روزے دار كا روزہ افطار كرانا مستحب ہے:

زيد بن خالد جھنى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى روزے دار كا روزہ افطار كرايا اسے روزے دار جتنا ثواب حاصل ہوگا، ليكن روزے دار كے ثواب ميں كوئى كمى نہيں ہو گى "

سنن ترمذي حديث نمبر ( 807 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1746 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 647 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے

Featured Post

صدارتي خطاب

 

Search This Blog

 
back to top