السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محترم حضرات آج الحمد للہ دارلھدارُ کنزر بارہمولہ کا سالانہ امتحان مکمل ہو ایک سلسلے میں ہم ایک ویڈیو بنائی ہیں ۔ آپ لوگ اس کو اس لنک پر دیکھ سکتے ہو
https://youtu.be/jx2zmpJsOJ0Thursday, January 10, 2019
Saturday, December 22, 2018
اولاد کی تربیت کیسے کریں

اولاد خدائے بزرگ و بر ترکاعطا کردہ وہ معززاور عظیم تحفہ ہے جس کے مقام و مرتبہ کی بلندی اچھے کارنامے صرف والدین اعزہ واقارب ہی نہیں بلکہ وطن کےتمام لوگوں کے لیےقابل فخربنتے ہیں نیز آخرت میں نجات کا باعث اور دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک دل کی راحت بنیں گے؛
بالآخر اولاد دونوں جہاں میں کامیابی سے ہمکنار ہو کر اپنے والدین اعزہ واقارب کو جہنم کی دہکتی ہوئ آگ سے نکال کر جنت کے خوشنما مناظر میں آسائش و آرام راحت و سکون والی دائمی زندگی عطا کرنے کاذریعہ بنیں گے ؛
لیکن یہ مقام ومرتبہ اسوقت حاصل ہوگا جبکہ والدین نے انکی دینی تربیت کرنے ادب سکھلانے احکام شرعیہ کو پورا کرنے دینی مزاج بنانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نمونئہ حیات بنانے میں پوری پوری دلچسپی لی ہو؛
جیساکہ قرآن کریم میں اللہ کا فرمان ہے (لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمھارے لیے نمونہ ہے؛
خدا نخوستہ اگر ان ساری چیزوں سے غفلت برتی گئ تو یہی ذلت خسارہ نقصان بدنامی اور رنج و غم وافسوس کا باعث ہو کر دل کو غم و پریشانی سے بھر کر دونوں جہاں کی رسوائ کا باعث ہو گی جو کہ ذلت کے دائمی گڈھے کے اندر گرا دے گی پھر اس سے نکلنا بہت مشکل ہو جا ئےگا؛
اسی لیے (طلب العلم فريضة علي كل مسلم ومسلمة)
ہر مسلمان مر دو عورت پر اتنا علم دین کا حاصل کرنا ضروری اور فرض عین کا درجہ رکھتا ہے کہ جس سے حلال و حرام کی تمیز اور پہچان ہو جائے؛
اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اپنی اولاد کو مدارس میں حصول تعلیم کے لیے داخل کرادیں اسکے ساتھ ساتھ بری صحبت لغویات اور سوء ادب سے بچا کر اچھی اچھی کام کی باتیں عمدہ نصیحتیں کرتے رہیں اور غلط باتوں پر تنبیہ بھی کریں معاشرہ میں رہن سہن کے آداب اور عمدہ اخلاق اوصاف حمیدہ کی تعلیم دیتے رہیں اپنی پوری توجہ انکی طرف مبذول رکھ کر ہمہ تن انکے احوال و کوائف سے باخبر رہیں اچھے کاموں پر حوصلہ افزائ بھی کریں تاکہ اولاد مزید آگے بڑھنے کی کو شش کرے؛
لکن افسوس صد افسوس کہ والدین اپنی اولاد کی انکی دنیوی تمناؤوں کو پورا کرنے میں تو دلچسپی لیتے ہیں، لیکن دینی تربیت کرنے سے کوسوں دور رہتے ہیں؛ بچپن سے ہی موبائل میں گیم کھیلنے کا ایسا چسکا لگا دیتے ہیں وہ ایک لمحہ کے لیے اسکے بغیر نہیں رہ پاتا پھر بتدریج کارٹون دیکھا نے دیگر ویڈیوز میں مشغول کر کے چھوڑدیتے ہیں کو ئ ٹوکے یا نکیر کرے تو کہتے ہیں کہ ابھی بچہ ہے بعد میں سنبھل جائے گا آگے چل کر یہی بچہ موبائل کا عاشق و دلدادہ ہو جاتا ہے اور واٹساپ فیس بک دیگر انٹرنیٹ کے سوفٹروں کا غلط استعمال کر کے ایسا بگڑ کر دین سے دور ہوتا ہے کہ صرف موبائل انٹرنیٹ کا ہی ہو کر رہ جاتا ہےاور اسکی خاطر ہر مشقت برداشت کر لیتا ہے لیکن اپنی عادت سے باز نہیں آتا جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے بچہ کسی کی بات کی پرواہ کیے بغیر اپنی من مانی زندگی گزارتا ہے اور ماں باپ اماموں یا تعویذ گنڈا کرنے والوں کا چکر کاٹتے ہیں اور چیک کراتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کو کسی نے کچھ کردیا ہے ، حالانکہ یہ تو انکی بے توجھی صحیح تربیت نہ کرنے کا نتیجہ ہے، دوسری طرف افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ ھیکہ معاشرہ کے افراد اولاد کی تربیت پر کچھ حد تک کسی نہ کسی درجے میں دھیا ن دیتے ہیں لیکن بچیوں کی تعلیم اور کما حقہ تربیت کی طرف پوری طرح توجہ نہیں دیتے ہیں؛
حالانکہ اچھی تعلیم و تربیت سے پو رے طور پر نا آشنا نا بلد نا واقف رکھنا یہ مستقبل میں اور بھی جان لیوا اور خطرناک ثابت ہوگا؛
بچیوں کی دینی تعلیم سے انحراف کر کے صرف دنیوی تعلیم پر اکتفا کیا جاتا ہے جو اور بھی لمحئہ فکریہ اور کربناک صورتحال پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے
یہی وجہ ھیکہ اگر آپ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ جتنے بھی بڑے بڑے لوگ گذرے ہیں سب کی مائیں دینی ذوق رکھنے والی اچھے اخلاق عمدہ صفات کی حامل اچھی تربیت کرنے والی تھیں انھوں نے اپنے بچوں کی دینی تربیت کر کے دینی ذوق انکے اندر پیدا کردیا ایسا دینی جذبہ تھا کہ محمد بن قاسم نے ابھی تو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسلام کے لیے لڑنے والے جانباز سپاہی بہادر شہسوار بنے اور صلاح الدین ایوبی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مولنا قاسم نانوتوی مولنا حسین احمد مدنی مولنا محمود الحسن گنگوہی مولانا بایزید بسطامی امام رازی امام غزالی انکے علاوہ دیگر کتنے بڑے بڑے محدثین مفسرین مشائخ پیدا ہوئے سب کو انکی ماں نے ہی جنا تھا نا البتہ اتنا فرق ہیکہ انکی مائیں انتہائ نیک دیندار متقی پر ہیزگار تھی انکو اس مقام تک پہنچانے میں ماں کا بھی تو بڑا کردار تھا؛
چونکہ بچوں کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے ماں کے اثرات بچوں میں سب سے پہلے مرتب ھوں گے اگر ماں تربیت یافتہ عمدہ صفات کی حامل اور تقوی کے اعلی معیار پر شریعت پر عمل کرنے والی ہو تو بچوں میں بھی یہی اثرات مرتب ھونگے اور بچے بھی نیک صالح متقی اور پرہیز گار بنیں گے اگر اسکے بر عکس صورتحال پائ گئ یعنی ماں کا دینداری سے کوئ واسطہ ہی نہ ہو غیبت کرنے والی لعن طعن کرنے والی ناشکری ناقدری کرنے والی ہوگی تو ظاہر سی بات ہے بچے بھی اسی نھج اور اسی طریقے پر چلیں گے اور اسکے اندر بھی بتدریج وہ تمام نقائص و عیوب پیدا ہو جائیں گے جو مستقبل میں مضرت کا سبب بن کر نقصان پہنچائیں گے پھر کف افسوس ملنے سے کو ئ فائدہ نہیں ہوگا صرف حسرت وتمنا بن کر رہ جائے گی دنیوی فائدہ ہوگا نہ دینی فائدہ ؛
اسی لیے ضرورت ہے کہ کم از کم بھشتی زیور اچھی تجوید کے ساتھ قرآن کریم پڑھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقف کرانا اتنی تعلیم دینا تو ازحد ضروری ہے تا کہ مسائل سے باخبر ہو کر زندگی کے اگلے مرحل کو طےکرے ورنہ بسا اوقات علم نہ ہونے کی وجہ سے ایسے کلمات زبان سے غیر شعوری طور پر نکل جاتے ہیں جو اسلام کے دائرہ سے نکالنے کا سبب بنتے ہیں پتہ بھی نہیں چلتا ہے اور اگلی زندگی میاں بیوی کی غیر شرعی تعلقات سے گزرتی ہے ان ساری چیزوں کو سامنے رکھتے ہو ئے اولاد کو علم و ادب سے آراستہ کرانا نہایت اہم اور ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن والدین سے پوچھ ہو گی تو اسوقت کیا جواب دیں گے؟ ؛
اگر والدین نے اپنے اولاد کی اچھی تر بیت کی تو یہ آپ کے لیے صدقئہ جاریہ بھی بنے گی اور قیامت کے باز پرس سے بھی بچ جائیں گے جیسا کہ حدیث کا مفہوم نیچے مذکو ہے کہ آپ سے بھی باز پرس ہوگی؛
نیز والدین اگر علوم شرعیہ سے ناواقف ہوِں تو انہیں چاہیے کہ وہ علماء سے ہر قدم پر ہر موڑ پر مسائل معلوم کر کے زندگی گزاریں علماء کی قدر کریں ان سے مشورہ لیتے رہے صلحاء سے دعائیں لیتے رہیں 'علماء صلحاء بزرگوں کی تحقیر نہ کریں؛
اور حدیث کا مفھوم ھیکہ ہر حاکم سے انکے رعایا ہر ذمہ داروں کو انکے ماتحتوں والدین کو انکی اولاد کے متعلق پوچھا جائے گا اسلیے والدین سے مؤدبانہ التماس وگزارش ھیکہ وہ اپنی اولاد کی کما حقہ اچھی سے اچھی تعلیم دے کر بہترین انداز میں تر بیت کر یں اور عند اللہ ماجور ہوں
Saturday, November 17, 2018
استاد کے خاص پیغام
تربیت کا فقدان:
معلم پر یہ اوّلین فریضہ ہے کہ وہ آنے والے نئے طالب علم کی تربیت کرے اور اس کا یہ ذہن بنا دے کہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک آپ متقی نہ بنیں گے کسی امام نے کہا :'' ما فقہ قوم لم یبلغوا لتقی '' وہ قوم کبھی علم حاصل نہیں کر سکتی جو متقی نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :''اتقو اللہ ویعلمکم اللہ '' تم اللہ سے ڈر جاؤ وہ تمہیں علم سکھلا دے گا۔پھر یہ بار بار یاد دہانی کرائی جائے ہفتے میں ایک دن ضررور طلباء سے تربیتی نشست کی جائے دل کی اصلاح پر زور دیا جائے کہ اگر آپ کے دل میں برے پروگرام ہوئے تو آپ علم سے محروم ہو جائیں گے ۔
حصول علم کے لئے دل کی صفائی شرط ہے ۔ معلم جب بھی شاگرد میں کوئی عملی کوتاہی محسوس کرے تو ایک باپ کی طرح خیر خواہی کا جذبہ لے کر اس بچے کو حکیمانہ انداز میں تنہائی میں سمجھائے اگر اس کے سامنے استاد کورونا بھی پڑے تاکہ وہ طالب علم سمجھے کہ میرا استاد میرا کتنا خیر خواہ ہے؟
تذکیہ نفس پر مشتمل کتب کا مطالعہ کرنے کا حکم دے مثلاََ فلاح کی راہیں ، آفات ِ نظر اور ان کا علاج از شیخنا ارشاد الحق الاثری حفظہ اللہ ، الفوائد از شیخنا امین اللہ پشاوری حفطہ اللہ ، ۔
الذہد لامام احمد ؒ وغیرہ۔)
محنت نہ کرنا :
ایک طالب علم کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ '' من جدّ و جد'' جس نے کوشش کی اس نے پا لیا ۔'' لا یستطاع العلم براحۃ الجسم ''جسم کو سکون پہنچا کر علم کا حصول ناممکن ہے۔
بد محنت طالب علم کو یہ نکتہ ذہن میں رکھناچاہئے کہ قرآن و حدیث کا علم تمام علوم سے افضل علم ہے یہ علم منزل من اللہ ہے ، اسی کے ذریعے لو گوں کی اصلاح ممکن ہے۔علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔یہی وہ علم ہے جس کے ذریعے ایک عالم دین اپنے ایک ذہن کی فکر و کوشش کے ذریعے پوری کا ئنات کو روشن کر سکتا ہے ۔ شرک ، کفر عام ہورہا ہے اگر محنت سے علم کو حاصل نہیں کریں گے تو شرک و کفر کے خلاف کون اپنی آواز بلند کرے گا ۔
امام اسحاق بن یوسف بن مر داس واسطی بیس سال تک کتابوں پر اس طرح جھکے رہے کہ سر اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ۔''
(تذکرہ الحفاظ: ١ / ٢٤٨)
بد محنت طالب علم کے لئے یہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہر فرد پر کتنے اخراجات ہوتے ہیں اگر وہ ساری سہولتیں استعمال کرنے کے باوجود علم کو حاصل نہ کر سکا تو پھر والدین کے ساتھ ، انتظامیہ کے ساتھ ، تعاون کرنے والوں کے ساتھ ظلم کر رہا ہے کل قیامت کو کیا جواب دے گا۔
شاید یہ بات طالب علم جلد سمجھ لے کہ جتنا آپ کے پاس علم ہوگا اتنا ہی آپ دین کا کا م کر سکیں گے ۔ اگر بہت زیادہ محنت کر کے زیادہ علم حاصل کیا جائے تو اللہ تعالیٰ بھی آپ سے بہت زیادہ دین کا کام لے گا ۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
آج جو بو گے کل کو وہی کاٹو گے۔
استاذہ کی خدمت سے جی چرانا :
یہ بھی ناکامی کی ایک وجہ ہے ہمارا یہ تجزیہ ہے کہ وہ طالب علم جو تعلیم میں محنت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ کی خدمت کرتا رہتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عزت سے ہمکنار کرتے ہیں اور اسی سے دین کا کام لیتے ہیں ۔
اے طالب علم ! اسا تذہ کی خدمت کامیابی کا پہلا زینہ ہے جس کو تو بھول چکا ہے ۔
ہم آپ کے لئے محدثین کے چند واقعات پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنے اساتذہ کی کتنی خدمت کیا کرتے تھے ، شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔
اساتذہ کی خدمت کے واقعات :
١۔ مولا نا عبد الرؤ ف جھنڈانگری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:'[ حضرت عبد اللہ بن عباس کے فضل و کمال اور وسعت علم کی کچھ انتہا نہیں مگر طلب علم اور مسائل اور فرائض کے حصول کے لئے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں جاتے اور جب زید بن ثابت کبھی سوار ہو کر باہر نکلتے تو آپ انکی سواری کا رکاب تھامتے ، جب حضرت زید ان کو اس ادا سے منع کرتے تو آپ فرماتے : '' ھکذا امر نا ان نفعل بعلماء نا '' کہ اسی طرح ہمیں علماء کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے ۔(مرأۃ الجنان جلد اول : ١٢٣)
٢۔ حضرت ابو العالیہ تابعین کرام میں تفسیر قرآن کے سب سے بڑے عالم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکی بے حد تعظیم و تکریم فرماتے۔جب قریش کے عام لوگ زمین کے فرش پر ہوتے تو ان کو اپنے ساتھ تخت و مسند پر بٹھا تے اور فرماتے :'' ھکذا العلم یزید الشریف شرفاََ و یجلس الملوک علی الأ سرۃ۔''
یعنی علم شریف کی شرافت کو بڑھاتا ہے اور اہل علم بادشاہوں کی طرح تخت پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔
( تذکرہ الحفاظ : ج ا : ٥٨)
٣۔ حضرت مجاہد تفسیر قرآن کے ممتاز اور مشہور عالم ہیں ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر مجاہد انکی تفسیری بلند پر وازیوں پر بے حد مسرور ہوتے اور حضرت مجاہد کی سواری کا رکاب تھامتے اور اسی کو اپنے لئے وجہ شرف سمجھتے حضرت مجاہد کا خود اپنا بیان ہے۔'' ربما اخذ نی ابن عمر باالر کاب ۔''
( تذکرہ الحفاظ ، ج ا : ٨٦)
٤۔ امیر لیث بن سعد والی مصر امام زہری کے رکاب کو تھامتے تھے۔
( آداب ِ الشریعہ : ٢٥٦)
٥۔ امام زہری ؒ اپنے استاد عبید اللہ بن عمر کی خد مت کرتے ، کنویں سے پانی نکال کر انکے کھیتوں کو سینچا کرتے ۔
(تذکرہ الحفاظ : ٧٤)
٦۔ حضرت امام ابو حنیفہ اپنے استاد حماد بن ابی سلیمان کی مختلف خدمات انجام دیتے کبھی ان کے گدّے کی روئی دھنتے کبھی بازار سے سبزی ترکاری اور گوشت وغیرہ خرید لاتے ۔ اسی طرح کے اور بہت سے کام کرتے ۔
( مقدمہ نصب الرایہ : ٤٠٤)
٧۔ عارف باللہ محدث ابراھیم حزلی کی تعظیم و تکریم کا واقعہ یا قوت حموی نے معجم الا دباء میں نقل کیا ہے کہ اسماعیل بن اسحاق قاضی وقت محدث یگانہ ابرا ھیم ہمیشہ یہ کہ کر ٹال دیتے کہ وہ قاضی مملکت اور وہاں دربانوں کو ہٹا کر آپ کو بصد اشتیاق بلا لیا ۔ امام ابراھیم پہنچے ،جوتا اتار کر فرش پر چلنے لگے تو قاضی صاحب نے حسنِ عقیدت سے ان کے جوتوں کو اٹھا کر ایک ریشمی کپڑے میں رکھ لیا ۔
تھوڑی دیر کے بعد جب امام صاحب واپس ہونے لگے تو قاضی صاحب نے ریشمی کپڑے سے ان کا جوتا نکال کر پیش کیا ۔ امام ابرا ھیم نے ا نکی عقیدت کا یہ حال دیکھا تو فرمایا :''غفرانکٰ اللہ ما اکرمت العلم۔'' یعنی اللہ تعالیٰ تکریم ِ علم کے سبب آپ کی مغفرت فرمائے ۔۔۔۔آمین ثم آمین۔
( علمائے دین اور أمراء اسلام : ٩٩۔١٠١)
جن بھی اپنے اساتذہ کی خدمت کرتے ہیں :
مولا نا ابرا ھیم میر سیالکوٹی ؒ لکھتے ہےں :'' ١٣١٦ھ میں جب یہ عاجز اپنے اور پنجاب کے استاد جناب حافظ عبد المنان صاحب مر حوم وزیر آبادی کی معیت میں پہلی بار حضرت میاں صاحب مر حوم ( سید نذیر حسین محدث دہلوی ؒ ۔ از ناقل) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ تو آپ نے ان ایام میں ایک دن مسجد میں آکر فرمایا کہ آج رات اس کمبخت نے ہم کو سونے نہیں دیا ۔ کبھی اس طرف پاؤں آ دباتا اور کبھی اس طرف سے ۔ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ جو جن آپ کا شاگرد تھا وہ رات کے وقت آپ کے پاؤں کو دبا یا کرتا تھا۔''
(تارےخ اہلحدیث : ٤٨٣)
Monday, November 12, 2018
Secretary Election result
*MEDIA CELL*
*Darul Huda monglora*
Secretary Election results
آج ١٢نومبر ٢٠١٨ کو الیکشن سیکریٹری دارُلھدیٰ منگلورہ کا نتیجہ منظر عام پر آیا طلاب العلم میں سے دو طالب علم الیکشن میں حصہ لے رہے تھے
١: اُبان ظہور منگلورہ
٢:سیرت قیوم منگلورہ
دارُلھدیٰ منگلورہ کی شعوری
کے ممبران نے سیرت قیوم کو 12votsسے کامیاب کیا ۔۔۔۔۔
16نومبر کو انشاء اللہ اس ایک خاص تاج پوشی ہوگی
اور سیکریٹری دارُلھدیٰ منگلورہ کو خاص انعامات سے نوازا جائے گا ہر علم دوست شخصیت کو دعوت دی جاتی ہے
کہ وہ دن کے ٤بجے مسجد ابوبکر صدیق منگلورہ میں تشریف لے آئے باقی وسلم
www.darulhudakunzer.blogspot.com
*Darul Huda monglora*
Secretary Election results
آج ١٢نومبر ٢٠١٨ کو الیکشن سیکریٹری دارُلھدیٰ منگلورہ کا نتیجہ منظر عام پر آیا طلاب العلم میں سے دو طالب علم الیکشن میں حصہ لے رہے تھے
١: اُبان ظہور منگلورہ
٢:سیرت قیوم منگلورہ
دارُلھدیٰ منگلورہ کی شعوری
کے ممبران نے سیرت قیوم کو 12votsسے کامیاب کیا ۔۔۔۔۔
16نومبر کو انشاء اللہ اس ایک خاص تاج پوشی ہوگی
اور سیکریٹری دارُلھدیٰ منگلورہ کو خاص انعامات سے نوازا جائے گا ہر علم دوست شخصیت کو دعوت دی جاتی ہے
کہ وہ دن کے ٤بجے مسجد ابوبکر صدیق منگلورہ میں تشریف لے آئے باقی وسلم
www.darulhudakunzer.blogspot.com
Saturday, November 10, 2018
Subscribe to:
Posts (Atom)
