Monday, August 6, 2018

شہید کون

No comments:
کیا ہے مقام شہید کا
۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہید کے بے تحاشا فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں ، حقیقت میں یہ منصب یقینا ان لوگوں کے لیے خاص ہے جن کو شریعت نے عطا فرمایا ہے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں ہر مرنے والے شخص کو شہید کا خطاب دیا جاتا ہے جبکہ حقیقی شہید کون ہے ؟
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن لوگوں کو شہید قرار دیا ہے ؟
آئیں ملاحظہ فرمائیں ۔

میدان جہاد  میں قتل کیا گیا شخص

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ .
اللہ کے راستے ( جہاد ) میں قتل کیا گیا شخص شہید ہے۔
(سنن نسائی : 3163 صحيح)

 اللہ کی راہ میں وفات پانے والا

:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .
جو شخص اللہ کی راہ میں وفات پا جائے وہ شہید ہے ۔
(صحیح مسلم : 1915)

 جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .
جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے ۔ (صحیح بخاری : 2480)
:ایک روایت میں ہے کہ
!ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول
أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي ؟ قَالَ : فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي ؟ قَالَ : قَاتِلْهُ قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي ؟ قَالَ : فَأَنْتَ شَهِيدٌ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ ؟ قَالَ : هُوَ فِي النَّارِ ۔
آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے ( تو میں کیا کروں؟ )
آپ نے فرمایا : اسے اپنا مال نہ دو۔
اس نے کہا : آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو ؟
فرمایا : تم بھی اس سے لڑو ۔
اس نے پوچھا :
آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو ؟
آپ نے فرمایا : تم شہید ہو گے۔
اس نے پوچھا : آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں ؟
فرمایا : وہ دوزخی ہوگا ۔ (صحیح مسلم : 360)

 پیٹ کی بیماری میں مرنے والا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الْمَبْطُونُ شَهِيد .
پیٹ کی بیماری (یعنی ہیضہ) سے مرنے والا شہید ہے ۔
(صحیح بخاری : 5733)

 طاعون کی بیماری میں مرنے والا

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلْمَطْعُونُ شَهِيد .
طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ۔ (صحیح بخاری : 5733)
ایک روایت کے لفظ ہیں :
الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
طاعون کی موت ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے ۔
(صحیح بخاری : 2830)

و شخص  اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ   .
جو شخص  اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے ۔(سنن ترمذی : 1421 صحیح )

 جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی سواری سے گر کر مرجائے

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ صُرِعَ عَنْ دَابَّتِهِ فِي سَبِيْلِ للهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .
جو شخص اللہ کے راستے میں اپنی سواری سے گر کر مر جائے ، وہ شہید ہے ۔ ( سلسلة الاحاديث الصحیحة : 2152)

 نمونیہ میں مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيد .
نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے ۔(سنن ابي داؤد : 3111 صحیح)

 جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے

سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .
جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے  ۔
( سنن ترمذی : 1421 صحیح )

 ڈوب کر مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلْغَرِقُ شَهِيدٌ .
ڈوب کر مرنے والا شہید ہے ۔( سنن ابي داؤد : 3111 صحيح )

 دب کر مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ .
( عمارت یا کسی چیز کے نیچے آکر ) دب کر مرنے والا شہید ہے ۔
( سنن ابي داؤد : 3111 صحيح )

 جل کر مرنے والا

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ .
جل کر مرنے والا شہید ہے ۔( سنن ابي داؤد : 3111 صحيح )

 درد زہ میں مرنے والی عورت

سیدنا جابر بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ .
وہ عورت جو بچہ جننے کی تکلیف ( درد زہ) میں مر جائے وہ شہید ہے ۔( سنن ابی داؤد : 3111 صحيح )

جو شخص ظلم سے بچنے میں مارا جائے

سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ .
جو شخص ظلم سے بچنے میں مارا جائے وہ شہید ہے۔
( سنن نسائی : 4127 صحيح )

 عمر و عثمان رضي الله عنھما شہید ہیں

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ :  اثْبُتْ أُحُدُ  ! فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ .
( ایک مرتبہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : احد ! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔(صحیح بخاری : 3675)

 طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہے

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا :
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ  .
جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ زمین پر چلنے والے کسی شہید کو دیکھے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ لے ۔( سنن ترمذي : 3739 صحيح )

 سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا شہیدہ ہیں

سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیں ، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی ، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قَرِّي فِي بَيْتِكِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ .
تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو ، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا ۔
آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مر جانے کے بعد آزاد کر دینے کی وصیت کر دی تھی ، چنانچہ وہ دونوں ( یعنی غلام اور لونڈی ) رات کو ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے ، ( چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے ) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔
(سنن أبي داؤد : 591 : حسن)
ايک روایت میں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ :
انْطَلِقُوا بِنَا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ .
ہمارے ساتھ چلو ! ہم شہید خاتون کی زیارت کریں ۔
(صحیح ابن خزیمة : 1676 : حسن )

ایک ضروری وضاحت

قارئین کرام : میدان جہاد میں دشمن کے ہتھیار سے قتل ہونے کے علاوہ باقی سب شہادتیں کم درجے کی ہیں اور ان کے احکام بھی ان شہیدوں کے سے نہیں ، لہذا انہیں غسل اور کفن کے ساتھ دفن کیا جائے گا ۔(سنن ابی داؤد مترجم 1/178 دارالسلام )

Tuesday, July 31, 2018

بچے کی تربیت کیسے کریں

No comments:
کتاب کا نام
بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

مصنف
ڈاکٹر ام کلثوم

ناشر
دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد


تبصرہ

دین اسلام میں بچوں کی تربیت اور نگہداشت کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور نبی کریمﷺ نے بچوں کو جنت کے پھول قرار دیا۔ بچے پر اثر انداز ہونے والے تین عوامل ہیں: گھر، مدرسہ اور معاشرہ۔ بچے کی زندگی پر سب سے زیادہ اثرات اس کے گھر کے ماحول کے ہوتے ہیں ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے اس لیے ماں کی بچے کی تربیت میں خاصا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ زیر نظرکتاب میں مصنفہ ڈاکٹر ام کلثوم نے تربیت اولاد میں والدین کے کردار کواجاگر کیا ہے۔ انہوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ بچوں کی تربیت کے ذیل میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو بہت خوبصورت انداز میں جمع کر دیا ہے۔ (ع۔م)
اس کتاب بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کو آن لائن پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
آپکا دینی بھائی عبدالمومن سلفی 

Friday, July 13, 2018

نبی کے ماننے والے کمزور اور غریب لوگ تھے

No comments:
تالیف: الشیخ السلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ، ترجمہ: مولانا مختار احمد ندوی حفظ اللہ
اہل جاہلیت کسی چیز کو محض اس لئے باطل سمجھتے تھے کہ اس پر چلنے والے کمزور غریب لوگ ہیں جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ٭ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ٭ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ٭ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُونِ ٭ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ ٭فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُونِ ٭قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ ٭ إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ ٭وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ ٭إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [26-الشعراء:105]
”قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا، جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں، میں تمھارا امانت دار پیغمبروں ہوں، تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ اور میں تم سے اس کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو رب العلمین پر ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو وہ بولے : کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہیں۔ نوح نے کہا: کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں ان کا حساب میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں۔ میں تو کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں۔ “
غور کیجئے حضرت نوح کی قوم نے محض اس لئے اپنے نبی کی اتباع سے انکار کر دیا کہ نبی کے ماننے والے کمزور اور غریب لوگ تھے۔ اس لیے ان کا مطمع نظر صرف دنیا تھا اگر ان کا مقصود آخرت ہوتی تو جہاں کہیں حق پاتے اتباع کرتے لیکن محض اپنی جاہلیت کی بنا پر حق سے منہ پھیر کر اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اس کے برعکس ہرقل کو دیکھو کتنی عظیم عقل و بصیرت کا مالک تھا پھر بھی ضعفاء کی پیروی حق کو حق کی دلیل سمجھتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اس نے ابوسفیان سے پوچھا کہ آپ کے پیروکار اشراف ہیں یا ضعفاء، کہا ضعفاء ہرقل نے کہا ”ضعفاء ہی تمام انبیاء کے پیروکار رہے ہیں۔ “
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے متعلق سورۃ ہود میں بھی یہی قول مذکور ہے۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ٭ أَنْ لَا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّـهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ ٭ فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ [ 11-هود:25]
”اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انھوں نے ان سے کہا، میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے اور پیغام پہچانے آیا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔ تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجہ کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہر سے اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔“

Tuesday, July 3, 2018

اسلام میں خواتین کا مقام

No comments:
*دارلُھدیٰ کنزر بارہمولہ کشمیر*
کی طرف سے ہر طالبہ کو اس موضوع پر تیاری کرنی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام میں عورت کا مقام
۰
الحمدللّٰہ رب العالمین،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد ﷺ،وعلی آلہ وصحبہ ومن دعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔أما بعد
اسلام میں مسلمان عورت کا بلند مقام،اور ہر مسلمان کی زندگی میں مؤثر کردار ہے۔صالح اور نیک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں عورت ہی پہلا مدرسہ ہے،جب وہ کتاب اللہ اور سنت رسول پر عمل پیرا ہو۔کیونکہ کتاب اللہ اور سنت رسول کو تھام لینا ہی ہر جہالت وگمراہی سے دوری کا سبب ہے۔قوموں کی گمراہی کا سب سے بڑا سبب اللہ تعالیٰ کی شریعت سے دوری ہے جس کو أنبیاء کرام قوموں کی فلاح وبہبود کے لئے لے کر آئے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللّٰہ وسنتی))
’’میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑ کرجا رہا ہوں ۔جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ایک ہے اللہ کی کتاب ،اور میری سنت۔‘‘
قرآن مجید میں عورت کی اہمیت اور مقام کے بارے میں کئی ایک آیات موجود ہیں۔عورت خواہ ماں ہو یا بہن ہو،بیوی ہو یا بیٹی ہو،اسلام نے ان میں سے ہر ایک کے حقوق وفرائض کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
ماں کا شکر ادا کرنا ،اس کے ساتھ نیکی سے پیش آنا اور خدمت کرنا عورت کے اہم ترین حقوق میں سے ہے۔حسن سلوک اور اچھے اخلاق سے پیش آنے کے سلسلے میں ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے،کیونکہ بچے کی پیدائش اور تربیت کے سلسلے میں ماں کو زیادہ تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور اسلام نے ان تمام تکالیف کو سامنے رکھتے ہوئے ماں کو زیادہ حسن سلوک کا مستحق قرار دیا،جو اسلام کا عورت پر بہت بڑا احسا ن ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((وَوَصَّیْنَا اْلِانْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ أُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَفِصٰلُہٗ فِی عَامَیْنِ أَنِ اشْکُرْ لِی وَلِوَالِدَیْکَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ))[لقمان:۱۴]
’’ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھٹائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر،(تم سب کو)میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
((وَوَصَّیْنَا اْلِانْسَانَ بِوَالِدَیْہ اِحْسَانًاحَمَلَتْہُ أُمّہٗ کُرْھاً وَوَضَعَتْہُ کُرْھًا وَحَمْلُہٗ وَفِصَالُہٗ ثَلَاثُوْنَ شَھْرًا))[الأحقاف:۱۵]
’’اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے،اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا ۔اس کے حمل اٹھانے کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔‘‘
ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا!
((من أحق الناس بحسن صحابتی ؟قال أمک قال ثم من؟قال أمک قال ثم من؟قال أمک قال ثم من؟قال ابوک))
’’یا رسول اللہ ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایاتیری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟نبی اکرم ﷺ نے تیرا باپ۔‘‘اس حدیث کا تقاضا ہے کہ ماں کے ساتھ باپ کی نسبت تین گنا زیادہ حسن سلوک کیا جائے،کیونکہ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ ماں کا نام لیا اور آخر میں ایک مرتبہ باپ کا ۔
بیوی کا مقام اور دلوںکو سکون دینے میں اس کے کردار کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
((وَمِنْ آیٰاتِہٖ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً))[الروم:۲۱]
’’ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان سے آرام پاؤ ۔اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کر دی۔‘‘حافظ ابن کثیررحمہ اللہ ا پنی تفسیرابن کثیر میں فرماتے ہیں کہ ’’ مَوَدَّۃً ‘‘ سے مراد محبت ا و ر ’’ ر َحْمَۃً ‘‘ سے مراد نرمی اور ہمدردی ہے۔کیونکہ آدمی عورت کو محبت سے چھوتا ہے یا نرمی سے چھوتا ہے تاکہ اس کے لئے اس عورت میں سے اولاد ہو۔
ہم رسول اللہ ﷺ کو دلی سکون پہنچانے ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنھاکے کردار کو کیسے بھول سکتے ہیں کہ جب پہلی وحی لیکر حضرت جبرئیل ںغار حراء میں اترے اور نبی کریم ﷺ کو زور سے دبایا۔تو نبی کریم ﷺ حالت خوف میں گھر تشریف لائے اور ڈر کی وجہ سے ان کے کندھے کانپ رہے تھے،اور فرمایا:
((دثرونی دثرونی لقد خشیت علی نفسی))
’’مجھے چادر اوڑھا دو!مجھے چادر اوڑھا دو!مجھے میری جان کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔‘‘تو حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنھانے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
((أبشر فواللّٰہ لا یخزیک اللّٰہ أبدا،انک لتصل الرحم ،وتصدق الحدیث،وتحمل الکل ،وتکسب المعدوم،وتقری الضیف،وتعین علی نوائب الحق))
’’خوش ہو جائیے!اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا،بے شک آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں،سچ بولتے ہیں ،بے سہارا کو سہارا دیتے ہیں،کمزور کا بوجھ اٹھاتے ہیں،مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیںاور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔‘‘
اسی طرح ہم حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنھاکے مؤثر کردار کو نہیں بھول سکتے کہ بڑے بڑے صحابہ کرام ان أحادیث نقل کرتے ہیں۔خصوصا عورتوں سے متعلقہ مسائل انہی سے زیادہ مروی ہیں۔
زمانہ قریب میں ہم امام محمد بن سعود رحمہ اللہ کی بیوی کے مؤثر کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ بیوی کی نصیحت پر ہی انہوں نے امام محمد بن عبد الوھا ب رحمہ اللہ کی دعوت کو قبول کیا اور ان کی مدد کی۔اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ میری (شیخ ابن باز رحمہ اللہ)تعلیم وتربیت میں بھی میری والدہ محترمہ کا بہت بڑا کردار ہے ۔جنہوں نے ہر مشکل میں میری راہنمائی کی اور تعلیم کے سلسلہ میں میری حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے اور ان کی مغفرت فرمائے۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو گھر محبت ،الفت،انس وپیار اور اسلامی تربیت میں زندگی گزار رہا ہو،تو اللہ کے فضل وکرم سے اس گھر میں برکات ہی برکات ہوں گی۔تجارت میں یا طلب علم میں یا زراعت میں ،اللہ تعالیٰ ہر کام میں برکت ڈال دے گا ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو نیک بنائے اور ہمارے نیک اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کو وہ پسند کرتا ہے۔آمین

Saturday, June 30, 2018

عظمتِ قرآن مجید ١

No comments:
عظمتِ قرآن مجید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن مجید کلام اللہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نوروھدایت کی طرف نکالے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ وہ اللہ تعالی ہی ہے جو اپنے بندے پرواضح آیات اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جاۓ } الحدید ( 9 ) ۔

اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں پہلے اور آخری لوگوں اور زمین وآسمان کی پیدائش کی خبریں دی ، اور اس میں حلال وحرام اور آداب واخلاق کے اصول ، اور عبادات و معاملات کے احکام ، انبیاء وصالحین کی سیرت ، کافروں اور مومنوں کی جزاوسزا ، مومنین کے گھر جنت کا وصف اور کافروں کے گھر جہنم کا تفصیلی بیان ہے اور اسے ہرچيز کے بیان کرنے والا بنایا ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اور ہم نے آپ پریہ کتاب نازل فرمائ ہے جس میں ہرچیزکا کافی وشافی بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے رحمت وخوشخبری ہے } النحل ( 89 ) ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اس کی مخلوقات اور اللہ تعالی اس کےفرشتوں اورکتابوں اوررسولوں اورآخرت کے دن پرایمان کی دعوت کا بیان ہے ، جیسا کہ فرمان ربانی ہے :

{ رسول اس چيزپرایمان لایا جواللہ تعالی کی طرف سے اس پر نازل ہوئ اورمومن بھی ایمان لاۓ ، یہ سب اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاۓ ، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے ، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ،اے ہمارے رب ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں ، اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے } البقرۃ ( 285 ) ۔

اورقرآن مجید میں قیامت کے دن اور موت کے بعد حشرونشر اور حساب وکتاب کے حالات کا تزکرہ ہے ، اور حوض کوثر اور پل صراط ومیزان اور نعمتوں اورعذاب اور قیامت کے دن لوگوں کے جمع ہونےکا وصف بیان کیاگیا ہے ۔

فرمان باری تعالی کا ترجمہ ہے :

{ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئ معبود ( برحق ) نہیں وہ تم سب کویقینا قیامت کے دن جمع کرے گا ، جس کے ( آنے ) میں کوئ شک وشبہ نہيں اللہ تعالی سے زیادہ سچی بات کرنے والا کون ہے } النساء ( 87 ) ۔

اور قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالی کی آیات کونیہ ( اس جہان کی نشانیوں ) اور آیات قرآنیہ میں غوروفکر اورتدبر اورسوچ بچارکی دعوت دی گئ ہے ، اللہ تبارک وتعالی کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

{ کہہ دیجۓکہ تم غوروفکرکروکہ آسمان وزمین میں کیا کیا ہے}یونس 101

اوررب ذوالجلال کا فرمان ہے :

{ کیا وہ قرآن پر غورفکر نہيں کرتے ؟ یا پھر ان کے دلوں پر تالے لگ چکے ہيں } محمد ( 24 ) ۔

قرآن مجید سب لوگوں کی طرف اللہ تعالی کی کتاب ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ ہم نے آپ پرلوگوں کے لیے یہ کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائ ہے پس جو شخص ھدایت پر آجاۓ تو اس کا اپنا ہی نفع ہے اور جوگمراہ ہوجاۓ اس کی گمراہی کا وبال بھی اس پر ہے اورآپ ان ذمہ دارنہيں ہیں } الزمر ( 41 ) ۔

اورقرآن کریم اپنے سے پہلی کتابوں مثلا توراۃ وانجیل کی تصدیق کرنے والا اوران کا محافظ ہے ، جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

{ اورہم نے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائ ہے جواپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اوران کی محافظ ہے } المائدۃ ( 48 ) ۔

نزول قرآن کے بعد یہی ایک ایسی کتاب ہے جو بشریت کے لیے تاقیامت کتاب رہےگی ، اب جو بھی اس پر ایمان نہ لاۓ وہ کافر ٹھرا اوروہ روزقیامت سزا سے دوچار ہوگا ، جیسا کہ رب ذوالجلال کےفرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ اورجولوگ ہماری آیات کوجھٹلائیں ان عذاب پہنچےگا اس ليے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں } الانعام ( 49 ) ۔

قرآن کریم کی عظمت اور جو کچھ اس میں فصاحت وبلاغت اور معجزات و نشانیاں اورامثال و عبرتیں ہیں اس کی بنا پر اللہ تعالی نے فرمایا :

{ اگرہم اس قرآن کوکسی پہاڑ پراتارتے تو آپ دیکھتے کہ وہ خشیت الہی سے پست ہوکر ریزہ ریزہ ہوجاتا اورہم ان مثالوں کولوگوں کے سامنے بیان کرتے تاکہ وہ غوروفکر کریں } الحشر ( 21 ) ۔

اور اللہ تعالی نے جن وانس کا یہ چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کی مثل لائيں یا پھر اس کی مثل ایک سورۃ ہی لے آئيں ، اور اس کی مثل کوئ‏ ایک آیت ہی لے آئيں ، تووہ اس کی استطاعت نہ پا سکے اور وہ اس کی طاقت رکھ بھی نہیں رکھ سکتے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ کہہ دیجۓ کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کی مثل لانا چاہيں تو ان سب سے اس کی مثل لانا ممکن ہے گوہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائيں } الاسراء ( 88 ) ۔

توجب قرآن کریم آسمانی کتب میں سب سے عظيم اور کامل اورآخری کتاب تھی ، تو اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کتاب لوگوں تک پہنچانے اور اس کی تبلیغ کا حکم دیتے ہوۓ فرمایا :

{ اے رسول جو کچھ بھی آپ کے رب نےآپ کی طرف نازل فرمایا ہے پہنچا دیں ، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ تعالی کی رسالت ادا نہیں کی } المائدۃ ( 67 ) ۔

اوراس کتاب کی اھمیت اور امت کواس کی ضرورت کے پیش نظراللہ تعالی نے اس کے ساتھ ہماری تکریم کرتےہوۓ ہم پرنازل فرمائ اوراس کی حفاظت اپنے ذمہ لیتے ہوۓ فرمایا :

{ بیشک ہم نے ہی قرآن کونازل فرمایا اورہم ہی اس کی حفاظت کرنےوالے ہیں } الحجر ( 9 ) ۔  .

شیخ محمد بن ابراھیم التویجری کی کتاب " اصول الدین الاسلامی " سے لیا گیا ۔

Wednesday, June 27, 2018

Featured Post

صدارتي خطاب

 

Search This Blog

 
back to top